Showing posts with label Urdu Shayari. Show all posts
Showing posts with label Urdu Shayari. Show all posts

Saturday, 6 April 2013

یہ مری اَنا کی شکست ہے، نہ دوا کرو نہ دعا کرو

یہ مری اَنا کی شکست ہے، نہ دوا کرو نہ دعا کرو
جو کرو تو بس یہ کرم کرو , مجھے میرے حال پہ چھوڑ دو

وہ جو ایک ترکشِ وقت ہے , ابھی اُس میں تیر بہت سے ہیں
کوئی تیر تم کو نہ آ لگے میرے زخمِ دل پہ نہ یوں ہنسو

نہ میں کوہ کن ہوں، نہ قیس ہوں، مجھے اپنی جان عزیز ہے
مجھے ترکِ عشق قبول ہے، جو تمھیں یقینِ وفا نہ ہو

جو تمھارے دل میں شکوک ہیں تو یہ عہد نامے فضول ہیں
جو مرے خطوط ہیں پھاڑ دو، یہ تمھارے خط ہیں سمیٹ لو

جو کسی کو کوئی ستائے گا تو گلہ بھی ہونٹوں تک آئے گا
یہ تو اک اصول کی بات ہے، جو خفا ہے مجھ سے کوئی تو ہو

مجھے اب صدائوں سے کام ہے، مجھے خال و خد کی خبر نہیں
تو پھر اس فریب سے فائدہ یہ نقاب اب تو اُتار دو

مجھے اپنے فقر پہ ناز ہے، مجھے اس کرم کی طلب نہیں
میں گدا نہیں ہوں فقیر ہوں، یہ کرم گدائوں میں بانٹ دو

یہ فقط تمھارے سوال کا مرا مختصر سا جواب ہے
یہ گلہ نہیں ہے، خلوص ہے، مری گفتگو کا اثر نہ لو

یہ ادھورے چاند کی چاندنی بھی اندھیری رات میں کم نہیں
کہیں یہ بھی ساتھ نہ چھوڑ دے، ابھی روشنی ہے چلے چلو

https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEhDC4aktL8UxGCeILpg5FBcbksnmczcnD6kVmLD_vnXauZgFiEPlT0fLYJ3DzFHfRDOMJRSwOaekLRgxp8Xjc2eItG99Gqi7MLZBaHKKNCuoQP3Qztl8itNBeyi8ln2m7acldjhkSUa6uAK/s1600/sad+teen+silouette.jpg

مَیں بھی اُڑوں گا ابر کے شانوں پہ آج سے

مَیں بھی اُڑوں گا ابر کے شانوں پہ آج سے
تنگ آ گیا ہُوں تشنہ زمیں کے مِزاج سے

مَیں نے سیاہ لفظ لِکھے دِل کی لَوح پر
چمکے گا درد اور بھی اِس اِمتزاج سے

انساں کی عافیت کے مسائل نہ چھیڑیئے
دُنیا اُلجھ رہی ہے ابھی تخت و تاج سے

گنگا تو بہہ رہی ہے مگر ہاتھ خُشک ہیں
بہتر ہے خُودکشی کا چلن اِس رِواج سے

تم بھی میرے مزاج کی لَے میں نہ ڈَھل سکے
اُکتا گیا ہُوں میں بھی تمہارے سماج سے

\https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEiBEUMyDsThPHWg8aHEAKmbUd6s5mkxgkLzkAb7dGGRnh2LJQP5ov8bb3udsZF6HAX4cypb0C_a2XLMSITBmQtdBYItII1_NMivrABQ8aqQwGTkj8llavuohmr2XZgFig6eYWiYmghj6orz/s400/2278241045_e1cf930471_m.jpg

Thursday, 21 March 2013

دن رات کے آنے جانے میں

دن رات کے آنے جانے میں
دنیا کے عجائب خانے میں
کبھی شیشے دھندلے ہوتے ہیں، کبھی منظر صاف نہیں ہوتے
کبھی سورج بات نہیں کرتا
کبھی تارے آنکھ بدلتے ہیں
کبھی منزل پیچھے رہتی ہے
کبھی رستے آگے چلتے ہیں
کبھی آسیں توڑ نہیں چڑھتیں
کبھی خدشے پورے ہوتے ہیں
کبھی آنکھیں دیکھ نہیں سکتیں
کبھی خواب ادھورے ہوتے ہیں

یہ تو سب صحیح ہے لیکن
اس آشوب کے منظر نامے میں
دن رات کے آنے جانے میں
دنیا کے عجائب خانے میں
کچھ سایہ کرتی آنکھوں کے ، پیماں تو دکھائی دیتے ہیں!
ہاتھوں سے اگرچہ دور سہی، امکاں تو دکھائی دیتے ہیں!
ہاں، ریت کے اس دریا سے ادھر
اک پیڑوں والی بستی کے
عنواں تو دکھائی دیتے ہیں!

منزل سے کوسوں دور سہی
پردرد سہی، رنجور سہی
زخموں سے مسافر چور سہی
پر کس سے کہیں اے جان وفا
کچھ ایسے گھاؤ بھی ہوتے ہیں جنہیں زخمی آپ نہیں دھوتے
بن روئے ہوئے آنسو کی طرح سینے میں چھپا کر رکھتے ہیں
اور ساری عمر نہیں روتے
نیندیں بھی مہیا ہوتی، سپنے بھی دور نہیں ہوتے
کیوں پھر بھی جاگتے رہتے ہیں! کیوں ساری رات نہیں سوتے!
اب کس سے کہیں اے جان وفا
یہ اہل وفا
کس آگ میں جلتے رہتے ہیں، کیوں بجھ کر راکھ نہیں ہوتے

https://blogger.googleusercontent.com/img/b/R29vZ2xl/AVvXsEj24tWcb5JKJpaAwJiNVQKthVHV5Pl9v0ZP1_o6_-2_C2kdMj_5kxEOkJeH78lP9jC8bcxom4A7O3gIjN_KPDbJWF7jnqe74d-E8xG0npkAxXSOzNQw2OU4mr8S3Uvx8A-wpLCcCWSacHss/s1600/alone-girl+talluq+sad-girl+beach-girl.jpg

Wednesday, 13 March 2013

THEK HAI KOI REHBAR BHE NA THA

ٹھیک ھے کوئی راہبر بھی نہ تھا
دل مگر ایسے در بدر بھی نہ تھا

کیوں زمیں کو ہی دوش دیتے رہے
آسماں اتنا معتبر بھی نہ تھا

کیسےصدیوں میں طے ھوا صاحب؟
راستہ اتنا مختصر بھی نہ تھا

جس پہ لکھٌا تھا نام ھم نے کبھی
جا کے دیکھا تو وہ شجر بھی نہ تھا

اُس کا گھر بھی تھا دسترس سے پرے
مُڑ کے دیکھا تو اپنا گھر بھی نہ تھا

کیسے دل کا علاج اُس نے کیا ؟
دیکھنے میں وہ چارہ گربھی نہ تھا

ڈوب جاؤ بتول ! دل نے کہا
راستے میں کوئی بھنور بھی نہ تھا

Wednesday, 6 March 2013

Pora Dukh aur Adha Chand

پُورا دکھ اور آدھا چاند!
ہجر کی شب اور ایسا چاند؟

دن میں وحشت بہل گئی تھی
رات ہُوئی اور نکلا چاند

کس مقتل سے گزرا ہو گا
اِتنا سہما سہما چاند

یادوں کی آباد گلی میں
گھوم رہا ہے تنہا چاند

میری کروٹ پر جاگ اُٹھے
نیند کا کتنا کچا چاند

میرے مُنہ کو کس حیرت سے
دیکھ رہا ہے بھولا چاند

اِتنے گھنے بادل کے پیچھے
کتنا تنہا ہو گا چاند

آنسو روکے نُور نہائے
دل دریا، تن صحرا چاند

اِتنے روشن چہرے پر بھی
سُورج کا ہے سایا چاند

جب پانی میں چہرہ دیکھا
تو نے کِس کو سوچا چاند

برگد کی ایک شاخ ہٹا کر
جانے کس کو جھانکا چاند

بادل کے ریشم جھُولے میں
بھور سمے تک سویا چاند

رات کے شانوں پرسر رکھے
دیکھ رہا ہے سپنا چاند

سُوکھے پتوں کے جھُرمٹ پر
شبنم تھی یا ننّھا چاند

ہاتھ ہلا کر رخصت ہو گا
اُس کی صُورت ہجر کا چاند

صحرا صحرا بھٹک رہا ہے
اپنے عشق کا سچا چاند

Tuesday, 5 March 2013

khuab sary khayal sary

خواب سارے ، خیال سارے

خواب سارے،
خیال سارے،
حقیقتوں کا لبادہ اوڑھے،
تمھاری ہستی سنوار جائیں

یہ چاند سورج،
یہ سارے تارے،
چراغ جتنے بھی جل رہے ہیں،
تمھارے چہرے کے رنگ دیکھیں تو ہار جائیں

یہ بہتی ندیا،
یہ چڑھتے دریا،
یہ گہرا ساگر،
یہ جھیل جھرنے،
یہ آبشاریں،
یہ اپنا جیون تمھاری آنکھوں پہ وار جائیں

یہ رنگ ، خوشبو
گلاب سارے،
محبتوں کے نصاب سارے،
سبھی تمھاری بلائیں لے لیں،
نظر تمھاری اتار جائیں۔



Wednesday, 27 February 2013

CHALO AB LOOT AO TUM



!!سنو تم نے کہا تھا نا 
مجھے جذبہ محبت سے کبھی جو تم پکارو گی 
!!میں اس دن لوٹ آؤں گا   
!تو دیکھو نا  
کئی لمحوں 
کئی سالوں 
کئی صدیوں 
سے تیرا رستہ تکتی 
یہ میری منتظر آنکھیں 
میرے دل کی یہ دھڑکن اور سانسیں 
بس تمہارا نام لیتی ہیں 
وہی اک ورد کرتی ہیں 
میری آنکھوں کے ساحل پر 
تیری خواہش کی موجوں نے 
بڑی ہلچل مچائی ہے 
تیری تصویر ، سوکھے پھول اور تحفے ! 
تیری چاہت کی خوشبو میں 
ابھی تک سانس لیتے ہیں 
وہ سب رستے کے جن پر تم ہمارے ساتھ چلتے تھے 
وہ سب رستے جہاں تیری ہنسی کے پھول کھلتے تھے 
جہاں پیڑوں کی شاخوں پر 
ہم اپنا نام لکھتے تھے 
اُداسی سے بھرے منظر 
تمھارے لوٹ کر آنے کی امیدیں دلاتے ہیں 
سنو کچھ بھی نہیںبدلا 
تمھارے پاؤں کی آواز سننے کی 
میرے کمرے کی بے ترتیب چیزیں منتظر ہیں 
!سنو 
تکمیل پاتی چاہتوں کو یوں ادھورا تو نہیں چھوڑو 
مجھے مت آزماؤ تم 
!....چلو اب لوٹ آؤ تم